Get Alerts

پاکستان کی تاریخ کا بے مثال لمحہ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور کابینہ سے ملاقات شیڈول

پاکستان کی تاریخ کا بے مثال لمحہ: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور کابینہ سے ملاقات شیڈول

راولپنڈی : آج  پاکستان کے   فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں صدرِ امریکہ اور کابینہ سے ملاقات شیڈول ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرامریکہ کے ایک غیر معمولی اور تاریخی دورہ  پر ہیں، جس میں  امریکی کابینہ کے تمام اراکین سے بھی اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ یہ ملاقات پاکستان کی عسکری قیادت کی سفارتی حیثیت کا ایک نیا سنگِ میل ہے اور پاکستان امریکہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔
پاکستان کی عسکری تاریخ میں اس نوعیت کی ملاقات کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ جنرل پرویز مشرف نے بطور صدر پاکستان امریکی صدور سے ملاقاتیں کیں، لیکن وہ ملاقاتیں بطور سپہ سالار نہیں بلکہ سیاسی سربراہ کے طور پر تھیں۔

جنرل راحیل شریف (2015) اور جنرل قمر جاوید باجوہ (2022) نے واشنگٹن کے دفاعی اداروں سے ملاقاتیں ضرور کیں، لیکن وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات، وہ بھی بغیر کسی سیاسی نمائندہ وفد کے، ان کو میسر نہ آ سکی۔

 وائٹ ہاؤس میں پہلی بار اس نوعیت کی ملاقات
فیلڈ مارشل عاصم منیر وہ پہلے پاکستانی آرمی چیف ہیں جن کی  امریکی صدر سے وائٹ ہاؤس میں براہِ راست ملاقات  شیڈول  ہے۔

یہ ملاقات  اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ پاکستان کی عسکری قیادت کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ماضی میں پاکستانی فوجی سربراہان کے دورے صرف دفاعی نوعیت کے اداروں تک محدود رہے، لیکن اس بار ایک خالصتاً عسکری قیادت کو اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر براہِ راست مدعو کیا گیا، جو ایک غیر معمولی اور نادر اقدام ہے۔

یہ ملاقات اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو اب صرف قومی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سفارتی منظرنامے پر بھی مکمل اعتماد حاصل ہے۔

 پاک-بھارت جنگ بندی میں ثالثی
یہ دورہ اس وقت ہوا جب صدر ٹرمپ نے پاک-بھارت حالیہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس کے فوراً بعد فیلڈ مارشل کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی اس بات کا مظہر ہے کہ امریکہ کی ترجیح پاکستان کی عسکری قیادت ہے۔

 ایران–اسرائیل تنازعے کے تناظر میں پاکستان کی اہمیت
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے مابین تنازعے کے پیشِ نظر، پاکستان کی جغرافیائی اور سٹریٹیجک اہمیت میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ امریکہ کا پاکستان کی عسکری قیادت سے براہ راست بات چیت کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔بغیر کسی سیاسی وفد کے، صرف عسکری قیادت کی بنیاد پر کی جانے والی یہ ملاقات نہ صرف ایک سفارتی اعتماد کا اظہار ہے بلکہ پاکستانی فوج کے عالمی مقام کو اجاگر کرتی ہے۔

قومی فخر کا لمحہ
یہ موقع نہ صرف پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے بلکہ ایک قومی فخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی پاکستان کی عالمی سطح پر تزویراتی قدر و قیمت کو اجاگر کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی عسکری قیادت بین الاقوامی فیصلوں میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یہ ملاقات پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی سمت متعین کرتی ہے۔ یہ صرف ایک فوجی سربراہ کی ملاقات نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے کہ دنیا پاکستان کو اب صرف جمہوری یا فوجی اصطلاحات میں نہیں بلکہ ایک مکمل سٹریٹیجک ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ٹیگز: