حکومت اور اپوزیشن کو قومی مفاد کا خیال نہیں

حکومت اور اپوزیشن کو قومی مفاد کا خیال نہیں

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کا پاکستان وہ نہیں ہے، جس کا تصور 1940ء میںپیش کیا گیا تھا۔ 74 برس بعد بھی ایک اِسلامی فلاحی ریاست کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈرمحترم لیاقت بلوچ نے بھی اسی جانب عوام کی توجہ مبذول کرائی کہ سیاست، پارلیمنٹ اور آئینی نظام خطرناک گرداب میں گھرا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی اور سابق حکمران جماعتیں جمہوریت کی آڑ میں مفادات کی آمرانہ اور محلاتی سازشوں کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ کسی کو قومی مفاد کی پروا بھی نہیں۔ 
ان کا کہنا ہے کہ یہاں قومی ادارے کمزور ہیں، آئین بے اثر ہے، قانون بے توقیر ہے۔ ایک طاقتور ایک طبقہ ریاست پر حاوی ہے۔ جمہوریت کے نام پر باریاں لگی ہوئی ہیں۔ انتشار اتنا ہے کہ کسی کو یہ علم ہی نہیں کہ ڈور کو کس سرے سے سلجھانا ہے۔عدم اعتماد تحریک اپوزیشن جاعتوں کا آئینی جمہوری حق ہے مگر عمران خان نے شائستگی اور جمہوری رویے سے سامنا کرنے کی بجائے ہیجان اور گھبراہٹ کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی عدم اعتماد تحریک کی کامیابی کے لیے پس پردہ محرکات مشکوک ہوتی جارہی ہیں۔ جمہوریت کی دعویدار قوتیں تسلیم کرلیں کہ اب یہ کھیل نہیں چل سکتا لہذا نئے مینڈیٹ کے لیے عوام سے رجوع کیا جائے۔ یہ ہی آئینی، جمہوری پائیدار راستہ ہے۔مہنگائی، بے روزگاری سے تنگ عوام عزت و وقار کی روٹی چاہتے ہیں۔
 پاکستان کی بقا اور سلامتی نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ سے وابستہ ہے۔ قرآن و سنت سے متصادم نظام اور دینی مسلکی بنیادوں پر خطرناک تقسیم مستقبل کی نسلوں کے لیے تباہ کن ہے۔ علماء کرام نے ہمیشہ امت میں محبت، برداشت اور دین کی لگن کا پیغام عام کیا ہے۔ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور غلبہ دین کی خدمت 
کرنے والوں میں اتحاد، اتفاق ، امت مسلمہ اور اسلامیان پاکستان کے لیے ناگزیر ہے۔
ہمارے ہاں زیادہ تر سیاستدان اپنے کاروبار کو وسعت دینے، قانون کی پکڑ سے بچنے، سرکاری خزانہ لوٹنے، اقربا پروری اور سرکاری پروٹوکول کے مزے لوٹنے کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔  حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ملک و قوم سے زیادہ اپنے اقتدار اور پارٹی کی فکر ہوتی ہے۔ ٹکٹ، وزارت یا کسی عہدے کے حصول کے لیے یہ سیاستدان پارٹی سربراہ کا ہر جائز و ناجائز حکم مانتے ہیں، چاہے وہ ملک و قوم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ 
 ہم سب اپنے اپنے مفادات اور دولت کے حصول کی خاطر ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نتیجتاً ہمارا ملک مسلسل دھشت گردی، کرپشن، مہنگائی، چوری، ڈاکہ زنی، ریپ اور دیگر جرائم و مسائل کا شکار ہے۔ یہ سب کچھ اب ختم ہونا چاہیے۔ کیونکہ قیامِ پاکستان سے اب تک ہم اس کا بہت زیادہ خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ اب ہم مزید نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہ سب کچھ صرف حکمرانوں ہی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کیلئے ہم میں سے ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی شعبے یا ادارے سے ہو، اپنے فرائض و ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے کام کرنا ہوگا، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جہاں کسی کی جان، مال اور عزت کو کس دوسرے سے کوئی خطرہ نہ ہو۔
 ملکی مفاد کا نام لے کر ذاتی مفاد کے حصول کی کہانی پاکستان میں کوئی نئی نہیں ہے۔ جب سے پاکستان بنا ہے اس ملک کی سیاست ذات کے محور سے باہر آ ہی نہیں سکی۔ جمہوریت ہو یا آمریت یا پھر ما رشل لاء ہمیں تو کچھ بھی راس نہیں آیا۔ موروثی سیاست کا کینسر اس طرح سے ہماری سیاسی پارٹیوں میں سرائیت کر چکا ہے کہ اس نے سارے نظام کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ سیاست بذات خود جنس شرافت ہے اور نہ ہی شیطانی وراثت اس کے حواری اگر پست کردار ہوں تو یہ یوں ہی تماش بینوں کا کھیل بن جاتی ہے جس کے اپنے بنائے ہوئے کردار عوام کے سامنے آکر اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر منظر سے غائب ہو جاتے ہیں جنہیں بعد میں تاریخ مختلف ناموں سے یاد کرتی ہے۔
قائداعظمؒ عظیم انسان تھے اور بے مثال سیاستدان ہونے کے علاوہ مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے۔انہوںنے اپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر پاکستان حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کی انتھک کوششوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان عظیم اور بے شمار قربانیاں دے کر بنا ہے۔ قائد اعظمؒ کی ذات کو رول ماڈل بناتے ہوئے تمام سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ملکی مفاد کے بارے میں سوچیں اور ملک کے عوام کو بے وقوف نہ بنائیں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے مفاد کی بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں اور اس عزیز اور عظیم مملکت اسلامیہ کی بقاء تعمیر و ترقی اور استحکام کے لئے انتھک محنت اور پوری دیانتداری اور فرض شناسی سے کام لیتے ہوئے اپنے قوم و ملک کی خدمت کریں اسی میں ہماری بھلائی ہے۔
 ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ اس کے اقوال و اعمال کی وجہ سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان تو نہیں ہو رہا؟ کیا وہ ملک و قوم کے خلاف کسی سرگرمی میں ملوث تو نہیں ہے؟ پاکستان سے کرپشن ختم کرنے اور ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے وہ کتنا کردار ادا کر رہا ہے؟  ہمیں پاکستان اور ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر مقدم رکھنا ہوگا۔ اسی طریقے سے ہم ایک حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اللہ تعالٰی ہمیں یہ سب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک و قوم کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں