اسلام آباد : عرب خبر رساں ادارے ’’الجزیرہ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آئندہ ہفتے پاکستان کی میزبانی میں ہونے جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا باقاعدہ آغاز جمعہ سے پہلے متوقع ہے، جس کے لیے وفاقی دارالحکومت میں تیاریاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کے دو خصوصی لاجسٹک طیارے نور خان ایئر بیس پر پہنچ چکے ہیں، جن میں مذاکرات کے لیے ضروری مواصلاتی نیٹ ورک اور تکنیکی عملہ شامل ہے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کرتے ہوئے بڑے ہوٹلوں کو عام مہمانوں سے خالی کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ جمعہ تک کسی بھی قسم کی نئی بکنگ پر مکمل پابندی عائد ہے تاکہ عالمی وفود کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، ان مذاکرات کا پاکستان میں ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کی غیر جانبدارانہ اور موثر ثالثی پر مکمل اعتماد کرتی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کے حالیہ انکشافات کے بعد کہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل اس عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اب یہ مذاکرات خطے کے استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔