اسلام آباد: بھارت کو میدان میں منہ توڑ جواب دینے کے بعد پاکستان نے سفارتی سطح پر بھی بھرپور سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار تین روزہ دورے پر چین روانہ ہو گئے ہیں۔ ان کے ہمراہ دیگر حکومتی رہنما بھی ہوں گے۔
دورہ چین کے دوران اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کے ساتھ جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال اور اس کے عالمی اثرات پر بات کریں گے۔ دونوں رہنما دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار کا چین کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک سفارتی وفد بھی مختلف ممالک کا دورہ کرے گا، جس میں بھارتی جھوٹے بیانیہ کا پردہ فاش کرنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔
چین روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر چین جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ جب ملاقات کرتے ہیں تو تمام اہم معاملات پر بات چیت کی جاتی ہے، اور گزشتہ تین ہفتوں میں چینی وزیر خارجہ کے ساتھ دو بار بات چیت ہو چکی ہے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ بھارت کے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹے تھے، اور دنیا کو یہ بات اچھی طرح سے علم ہو چکی ہے کہ بھارت کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 60 سے زائد ممالک کی ڈپلومیٹک کمیونٹی کے ساتھ رابطہ کیا گیا، اور ان ممالک سے سیاسی، علاقائی اور عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ چین پاکستان کا قریبی دوست ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید مضبوطی آئے گی۔