تعلیم بھی نذر سیلاب!

تعلیم بھی نذر سیلاب!

ہمارے ہاں شعبہ تعلیم بہت سے مسائل میں گھر ا ہوا ہے۔ پچھتر برس گزر جانے کے بعد بھی مسائل کا انبوہ کثیر موجود ہے۔ اسکول ایجوکیشن ہو، یاکالج، یونیورسٹی کی تعلیم، ہر سطح کی تعلیم کے بیسیوں مسائل موجود ہیں۔ کہیں ہمیں بجٹ کی کمی کا معاملہ درپیش رہتا ہے۔ کہیں ناقص اور غیر معیاری تعلیم کا۔ رہی سہی کسر سیلاب نے پوری کر دی ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے سیلاب نے وطن عزیز کے مختلف حصوں میں تباہی برپا کی ہوئی ہے۔ اس آفت نے نے ہماری نازک معیشت پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے ۔ سیلاب نے فصلوں ، مکانوں، سڑکوں، اور دیگر انفراسٹرکچر کو جس طرح تباہ کیا ہے، اس سے کم و بیش تیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ یہ صرف مالی نقصان کا تخمینہ ہے۔ جانی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ اس کی تلافی تو خیر کسی بھی طرح ممکن نہیں ہو سکتی۔ سیلاب نے جس طرح مختلف شعبوںپر اثرات مرتب کئے ہیں،  اسی طرح تعلیم کا شعبہ بھی سیلاب کی نذر ہو گیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان بھر میں تقریبا انیس ہزار اسکولوں کی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سب سے زیادہ تباہی سندھ میں آئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صوبہ سندھ کے تقریبا سولہ ہزار سکول پانی میں بہہ گئے ہیں۔ جو اسکول سیلاب کی تباہی کی زد میں آنے سے بچ گئے ہیں۔ وہ بھی بند ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ ان اسکولوں کی عمارتیں سیلاب متاثرین کی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ 
 ہمارے ہاں پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے حالات پہلے کون سے اچھے ہیں؟ حالت یہ ہے کہ آج تک ہم پرائمری تعلیم کا سو فیصد ہدف حاصل نہیں کر سکے۔ کم و بیش تین کروڑ بچے جو اسکول میں داخل ہونے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور جنہیں اسکول میں زیر تعلیم ہونا چاہیے ، وہ اسکول میں داخلہ لینے سے محروم ہیں۔ کہیں بجٹ کا مسئلہ درپیش ہے اور کہیں معیار تعلیم کا۔ کوشش کے باوجود ہماری حکومتیں ان مسائل کا خاتمہ کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ سیلاب نے برسوں سے موجود ان مسائل میں مزید حصہ ڈالا ہے۔صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے لاکھوں شہری بے سرو سامانی کی حالت میں اندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ پیٹ بھر کھانا میسر ہے ، نہ خوراک ، ادویات اور دیگر ضروریات زندگی۔ ایسے میں اسکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے کی فکر کون کرئے؟۔ امدادی کاروائیوں میں مصروف وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی متاثرین سیلاب کوروٹی ، کپڑا اور چھت کی فراہمی میں اپنا زور بازو خرچ کر رہی ہیں۔یقینا اس وقت یہ سب قابل جواز ہے۔ جب ہم اس مرحلے سے نکلیں گے اور آبادکاری کے مرحلے میں داخل ہوں گے، تب تعلیم کی باری آئے گی۔یقینا اس وقت منصوبہ بندی کی جائے گی کہ بچوں کی تعلیم کا جو نقصان ہوا ہے ، اسے کیسے پورا کیا جائے۔ 
 چند ماہ پہلے تک ہم کرونا کی افتاد کا شکار تھے۔ ہر طرف اس وبا نے خوف و ہراس کی کیفیت طاری کر رکھی تھی۔ ہر شعبہ زندگی  اس آفت سے متاثر تھا۔کرونا نے تعلیم کے شعبے پر بھی اثرات بد مرتب کئے تھے۔ اسکول ، کالج ، اور یونیورسٹیاں کئی مہینوں تک بند رہیں۔ طالب علم آن ۔لائن تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے۔ آن ۔ لائن ایجوکیشن کا تجربہ کچھ خاص کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس طریقہ تعلیم کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔ طالب علموں نے سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں تو لے لیں ، لیکن ان کی علمی قابلیت کا معیار وہ نہیں جو کلاس روم ایجوکیشن کی صورت میں ہوا کرتا تھا۔کوویڈ کے بعد اب ہمیں سیلاب کا سامنا ہے۔ سیلاب نے خاص طور پر سکول کے بچوں کی تعلیم کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب تک ہم متاثرین سیلاب کے روٹی،کپڑے اور خوراک کے مسائل حل کر کے فارغ ہوں گے، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہو گا۔ اللہ کرئے کہ آبادکاری کے مرحلے کا آغاز ہو تو تعلیم کی طرف سب سے پہلے توجہ مبذول کی جائے۔تباہ حال اسکولوں کی عمارتوں کو تعمیر کیا جائے اور بچوں کی تعلیم کا سلسلہ وہیں سے شروع کیا جائے، جہاں سے یہ سلسلہ منقطع ہوا تھا۔ یقینا یہ ایک نہایت مشکل مرحلہ ہو گا۔ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں محدود وسائل کی حامل ہیں۔ ہزاروں سکولوں کی عمارتو ں کو تعمیر کرنے کے لئے بھاری بھرکم سرمایہ درکار ہو گا۔بہرحال ان مشکلات اور مسائل کی موجودگی سے قطع نظر، نہایت ضروری ہے کہ آبادکاری کے مرحلے میں تعلیم کی بحالی کو اولین ترجیح کے طور پر شامل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے مناسب رقم مختص کی جائے۔ غیر ملکی امداد کا درست استعمال کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اچھی منصوبہ بندی کی جائے اور اسے عملی جامہ پہنانے کا اہتمام کی جائے۔