برطانیہ نے چین پر سائبر حملوں کا الزام لگا دیا

برطانیہ نے چین پر سائبر حملوں کا الزام لگا دیا

لندن:برطانیہ نے چین پر سائبر حملوں کا الزام لگا دیا۔ لندن میں پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اولیور ڈاؤڈن نے کہا چینی حکومت سے وابستہ کرداروں نے جمہوری اداروں اور ارکان پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا۔ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ برطانیہ سائبر حملے روکنے کیلئے کچھ بھی کرنے سے نہیں رکے گا۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق دو چینی شخصیات اور چینی حکومت سے وابستہ پی ٹی گروپ پر بھی پابندیاں لگا دیں۔ لندن سے میڈیا رپورٹ کے مطابق سائبر حملے اگست 2021 میں الیکٹورل کمیشن پر کئے گئے۔ حملے کے ذریعے 40 ملین ووٹر اور 43 انفرادی شخصیات بشمول اراکین پارلیمنٹ و لارڈز کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی۔


میڈیا رپورٹ کے مطابق چین پر تنقید کرنے والے متعدد لارڈز اور اراکین پارلیمنٹ سائبر حملوں کا نشانہ بنے۔ دیگر مغربی ممالک کی طرف سے بھی چینی سائبر حملوں سے متعلق تشویش سامنے آنے کا امکان ہے۔ 
میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی طرف سے سلامتی کونسل کے ساتھی رکن پر سائبر حملوں کے الزام سے دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھے گی۔ سائبر حملے کے متاثرین میں سابق ٹوری لیڈر سر ای این ڈبلن سمتھ، سابق وزیر ٹم لافٹن اور ایس این پی کے اسٹیورٹ میکڈانلڈ شامل ہیں۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹ کے مطابق چین  کسی غلط کام میں ملوث یا جاسوسی کرنے کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں