Get Alerts

پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ، انہی کو ملک کا مستقبل سنوارنا ہے ، چئیر مین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

 پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ، انہی کو ملک کا مستقبل سنوارنا ہے ، چئیر مین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

اسلام آباد : چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ جب گورننس کمزور ہو جائے تو ادارے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں، اور ایسے کمزور ادارے کرپشن کو جنم دیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے اداروں میں رشوت دینا پڑتی ہے۔

اسلام آباد میں فاسٹ یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام سیمینار "2030 کا پاکستان: چیلنج، امکانات اور نئی راہیں" سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تمام 33 ڈویژنز کو الگ الگ صوبے کی حیثیت دی جانی چاہیے تاکہ مقامی سطح پر گورننس بہتر ہو اور عوامی مسائل بروقت حل ہوں۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ کمزور نظامِ حکومت کی وجہ سے عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج کے پاس 3 ہزار سے زائد کیسز زیرِ التوا ہوتے ہیں اور قتل جیسے مقدمات کو نمٹانے میں 16 سے 18 سال لگ جاتے ہیں، جو انصاف کے نظام کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 44 فیصد بچوں کی جسمانی نشوونما رک گئی ہے، جبکہ آدھے بچوں کے دماغ اور جسم پوری طرح ترقی نہیں کر پا رہے۔ میاں عامر محمود کے مطابق صرف 1 فیصد خوش نصیب بچے یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں، جبکہ کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ پنجاب حکومت ایک سرکاری اسکول کے بچے پر ماہانہ 4400 روپے خرچ کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے کیونکہ ہم سوال کرنا چھوڑ چکے ہیں۔

 میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تاکہ ہر علاقے میں ترقی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق پاکستان میں 25 کروڑ کی آبادی کے لیے صرف 4 صوبے ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر 33 ڈویژن کو صوبے بنا دیا جائے تو ایک صوبے میں زیادہ وزرائے اعلیٰ یا ایڈمنسٹریٹرز مقرر کیے جا سکتے ہیں، جو مقامی سطح پر مؤثر طریقے سے کام کریں گے۔

 انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تقسیم کے بعد تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی علیحدگی کے نتیجے میں دونوں ریاستوں کی فی کس آمدن میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اسی ماڈل کو پاکستان میں اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ پسماندہ علاقے ترقی کر سکیں۔

 میاں عامر محمود نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور اگر یہی طبقہ جاگ جائے تو ملک میں مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کو ہتھیار بنائیں، خود شعور حاصل کریں اور سوالات اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب سڑکوں پر نہیں آتا، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور باہمی مشورے سے ملک کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں آئے بلکہ پاکستان کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے آئے ہیں۔

 میاں عامر محمود نے فیصل آباد کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں ڈھنگ کا اسپتال، کالج یا یونیورسٹی نہیں۔ فیصل آباد کے شہریوں کو ہر معمولی ضرورت کے لیے لاہور آنا پڑتا ہے، کیونکہ ہم نے وسائل کو صرف بڑے شہروں میں مرکوز کر دیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کے پاس خود جا رہے ہیں تاکہ انہیں اپنے حقوق اور ذمہ داریاں یاد دلا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام متحد ہو جائیں اور ایک رائے قائم کر لیں، تو کوئی سیاسی جماعت انکار نہیں کر سکے گی۔یہ وقت جاگنے، سوچنے اور سسٹم کو بدلنے کا ہے، اگر آج ہم نے قدم نہ اٹھایا تو آنے والے 20 سال بھی گنوا بیٹھیں گے۔"

ٹیگز: