عظمت سعید منتخب حکومت کیخلاف سازش کے حصہ دار اور کرتا دھرتا تھے، مریم نواز

عظمت سعید منتخب حکومت کیخلاف سازش کے حصہ دار اور کرتا دھرتا تھے، مریم نواز
کیپشن: عظمت سعید منتخب حکومت کیخلاف سازش کے حصہ دار اور کرتا دھرتا تھے، مریم نواز
سورس: فوٹو/اسکرین گریب

لاہور: مریم نواز نے کہا جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید منتخب حکومت کے خلاف سازش کے کرتا دھرتا تھے۔ کھوکھر برادران کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ یہ نواز شریف کے بااعتماد ساتھی ہیں اور انہی کے کہنے پر کھوکھر برادران سے اظہار یکجہتی کے لئے آئی ہوں۔ کھوکھر برادران کے حق میں عدالت کا فیصلہ آ گیا ہے اور حکومت کے خلاف کرپشن کے الزمات سامنے آ رہے ہیں جنکہ ایک دن تو آئے گا جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کھوکھر برادران نے نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کیا تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کر دی گئی اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ عمران خان ذاتی طور پر کھوکھر برادران کے خلاف آپریشن کو مانٹیر کرتے رہے ہیں۔ 

نائب صدر مسلم لیگ ن نے مزید کہا تحریک انصاف انصاف ون مین شو پارٹی ہے اور جب عمران خان کمزور ہو گا تو ان کی پارٹی بھی ختم ہو جائے گی اور تحریک انصاف اپنی پارٹی توجہ دے نہ کہ مسلم لیگ (ن) پر ۔ پی ڈی ایم میں اختلاف سے متعلق حکومت کی خواہش دم توڑتی نظر آ رہی ہے جبکہ اس وقت پی ڈی ایم میں مثالی کوآرڈینیشن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں رائے کا اختلاف بھی ہوتا ہے تو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرتے ہیں جبکہ بلاول کی ان ہاؤس تبدیلی کی تجویز ٹی وی پر سنی لیکن اگر بلاول کے پاس ان ہاؤس تبدیلی کے لیے نمبرز ہیں تو اپنی تجویز پی ڈی ایم میں رکھیں۔

براڈ شیٹ سے متعلق مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ براڈشیٹ نہیں فراڈ شیٹ ہے اور پاکستان کے عوام کا پیسا برطانیہ کی عدالت کے فیصلے سے پہلے کیوں منتقل کیا گیا۔ براڈ شیٹ کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ عظمت سعید واٹس ایپ جے آئی ٹی کے بانی تھے۔ جسٹس عظمت سعید نے ذاتی طور پر اثر انداز ہو کر جےآئی ٹی بنائی اور ذاتی پسند نہ پسند کی بنیاد پر افسران کو جے آئی ٹی میں شامل کیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عظمت سعید منتخب حکومت کے خلاف سازش کے حصہ دار اور کرتا دھرتا تھے جبکہ براڈ شیٹ معاہدے کے وقت عظمت سعید نیب کے عہدے پر تھے۔ فاروق آدم نے خود ہی کہہ دیا کہ ایک ارب ڈالر کا نواز شریف پر الزام قیاس آرائی پر مبنی تھا۔