اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے او آئی سی فورم پر فلسطین، ایران اور کشمیر کے حوالے سے بھرپور سفارتی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا، جہاں پاکستان نے ایران کے حق میں مضبوط مؤقف پیش کیا اور سیشن بلوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستانی قیادت سے گرمجوشی سے ملاقات کی، جب کہ اجلاس کے دوران چین، روس اور الجزائر سمیت کئی ممالک نے ایران-اسرائیل جنگ بندی کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی حملے کے بعد پاکستان نے واضح پوزیشن لی اور بیان جاری کیا، اور یہ پیغام دیا کہ امریکہ سے اچھے تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ غلط اقدامات میں ساتھ دیا جائے۔ اسحاق ڈار کے مطابق، ایران نے سب سے پہلے پاکستان کے مؤقف کی تعریف کی اور ایرانی پارلیمنٹ میں "پاکستان زندہ باد" کے نعرے لگے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں سے او آئی سی رابطہ گروپ کا اجلاس بھی مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بلایا گیا، جس میں بھارت کے اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔ ایران کی جانب سے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد، پاکستان کی سفارتی پوزیشن پر قیاس آرائیاں کی گئی
"ہم نے اپنی ذمہ داری مکمل ادا کی۔ ایران نے جوابی حملے کا فیصلہ خود کیا، ہمیں معلوم تھا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھے گا"، نائب وزیراعظم نے کہا۔