سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملہ کرنے والے بزدل اور بے غیرت ہیں، کسی رحم کے مستحق نہیں،جسے ملکی قانون پسند نہیں وہ پاکستان سے چلا جائے : کاکڑ

سیکورٹی فورسز اور شہریوں پر حملہ کرنے والے بزدل اور بے غیرت ہیں، کسی رحم کے مستحق نہیں،جسے ملکی قانون پسند نہیں وہ پاکستان سے چلا جائے : کاکڑ

 پشاور: نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ جو پاکستان کا قانون نہیں مانتا وہ یہاں سے چلا جائے۔دہشت گرد بزدل ،بے غیرت ہیں بلوں سے نکلیں ان کے حملوں کا جواب دیں گے۔

گورنر ہاؤس پشاور میں خیبر پختون خوا پولیس دربار سے خطاب کرتے  نگراں وزیراعظم نے کہا کہ کے پی پولیس کے جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ کے پی پولیس کے شہدا کے ورثا کوئی معمولی نہیں بہت بڑے لوگ ہیں۔ میں ایک مقروض کی حیثیت سے یہاں آیا ہوں۔ آپ لوگوں کا مجھ پر بہت بڑا قرض ہے،بعض اوقات ہم آپ کو وہ مالی امداد نہیں دے پاتے جو دینی چاہیے۔

نگراں وزیراعظم نے دہشت گردوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرے ہوئے لوگ ہیں جنہوں نے اس شہر میں بچوں کو قتل کیا۔ میں نے بیماری یا خودکش حملے میں مر جانا ہے یہ فیصلہ اللہ کا ہو گا۔ یہ دین اور اسلام کے نام پر لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ اللہ نے زندگی اور موت کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔ ہم پر 10حملے کریں گے ان کو ایک ہزار بار جواب دیں گے۔

  

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا ساتھ دینے والے گرے ہوئے لوگ ہیں۔  اے پی ایس میں معصوم بچوں کو شہید کیا گیا،ان بےغیرتوں کو حیا آنی چاہیے۔ ہم ان دہشت گردوں سے نہیں ڈرتے۔ ہم سب اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں۔ یہ دہشت گرد ہماری راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ، ہم ان کے خلاف کامیاب ہو چکے ہیں اور ہمیں اپنے اس سفر پر گامزن رہنا چاہیے۔


  دہشتگرد بزدل بے غیرت ہیں جو چھپ کر حملے کرتے ہیں اگر ان میں  حیا اور جرات ہے تو بلوں سے نکلیں سامنے آکر لڑیں، یہ 10 حملے کریں گے ہم ہزار بار جواب دیں گے۔  مجھے بڑی خوشی ہورہی ہے کہ شہید صفت اور ملک سعد جیسہ قدر آور ہستیوں کے جو پیشہ ور ورثا ہیں وہ میرے سامنے بیٹھے ہیں، آپ پوری ریاست کا ورثا ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ مختلف آرا رکھنے والے احادیث کا حوالہ دے کر فساد پیدا کرتے ہیں کس نبی کے نام پر اے پی ایس میں ان کے ٹکڑے کیے؟     ہم ان کو علیٰ الاعلان کہتے ہیں یہ 10 حملے کریں گے ہم ہزار بار جواب دیں گے۔ یہ دین کے نام پر کس کو ڈراتے ہیں، زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، بہت لوگ کہتے ہیں 20 دن بعد آپ نہیں ہونگے۔ سخت باتیں نہ کریں، جب تک آخری سانس ہے ایسی باتیں کرینگے، مزید شدت اوریقین کے ساتھ کریں گے۔

 
نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کیا کریں؟ ان کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں، یہ بزدل بے غیرت ہیں، چھپ کر حملے کرتے ہیں حیا اور جرات ہے تو بلوں سے باہر نکلیں اور  سامنے آکر لڑیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو دہشتگرد ہیں انہوں نے فیصلہ خود کیا ہے ان پر کوئی زبردستی نہیں یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے وہ جاتے ہیں اور کسی وجہ سے تیار ہوتے ہیں کہ ہمیں اس ریاست میں لڑائی لڑنی ہے، اس اختیار کے بعد وہ ہمدردی کے لائق نہیں، کسی طبقے کو یہاں کے قوانین سمجھ نہیں آرہے تو وہ کہیں اور چلاجائے ان کے ساتھ زور زبردستی نہیں، دنیا بھر میں سب کو یہی وردی دی گئی ہے اور سب کو ایک ہی اختیار دیا گیا ہے، خودکش حملہ آور ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں لیکن ہم حکمت اور ہمت سے یہ لڑائی لڑیں گے۔

مصنف کے بارے میں